:
Breaking News

کے درمیان پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ختم، لوک سبھا میں 96 گھنٹے سے زیادہ کام متاثر

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | India News | پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 2026 غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگیا۔ لوک سبھا میں تقریباً 96 گھنٹے اور راجیہ سبھا میں 76 گھنٹے سے زیادہ کارروائی متاثر رہی۔

ڈیسک، نئی دہلی، 13 اگست۔ عالم کی خبر: مسلسل ہنگامے اور احتجاج کے درمیان پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگیا۔ اجلاس کے آخری دن لوک سبھا کی کارروائی تقریباً ایک منٹ تک چلی، جبکہ راجیہ سبھا میں قریب ایک گھنٹے تک کارروائی ہوئی۔ پورے اجلاس کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف مسائل پر شدید سیاسی کشمکش دیکھنے کو ملی۔

لوک سبھا میں اجلاس کے آخری دن وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی کابینہ کے ارکان اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔ اسپیکر اوم برلا نے وندے ماترم کی گائیکی کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

دوسری جانب راجیہ سبھا میں اجلاس کے آخری دن مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن (MMDR) ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔ کانگریس صدر اور اپوزیشن کے اہم رہنما ملکارجن کھرگے نے ہلدوانی میں اپنے پروگرام کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے ’شدھی کرن‘ کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔

لوک سبھا میں 96 گھنٹے سے زیادہ وقت ضائع

اس مانسون اجلاس میں لوک سبھا کی مجموعی طور پر 19 نشستیں ہوئیں۔ عام طور پر ایک دن کی کارروائی میں دوپہر کے کھانے کے وقفے کو نکال کر تقریباً چھ گھنٹے کا وقت دستیاب ہوتا ہے۔ اس حساب سے 19 نشستوں میں تقریباً 114 گھنٹے کی کارروائی ہونی تھی۔

لیکن مسلسل ہنگامے اور مختلف مواقع پر ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کی وجہ سے لوک سبھا میں تقریباً 17 گھنٹے 30 منٹ ہی کام ہوسکا۔ اس طرح تقریباً 96 گھنٹے 30 منٹ کا ممکنہ وقت ضائع ہوگیا۔

یہ صورتحال پارلیمانی کام کاج کے لیے اہم سوالات کھڑے کرتی ہے، کیونکہ سوالات، زیرو آور، عوامی مسائل پر بحث اور مختلف بلوں پر تفصیلی گفتگو کے لیے دستیاب وقت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

راجیہ سبھا میں بھی 76 گھنٹے سے زیادہ کارروائی متاثر

راجیہ سبھا کی حالت بھی بہت مختلف نہیں رہی۔ یہاں بھی اجلاس کے دوران 19 نشستیں ہوئیں اور تقریباً 114 گھنٹے کی کارروائی متوقع تھی۔ تاہم ایوان میں تقریباً 37 گھنٹے 24 منٹ ہی کام ہوسکا۔

اس طرح راجیہ سبھا میں تقریباً 76 گھنٹے 36 منٹ کا ممکنہ وقت ضائع ہوا۔ اس کے باوجود ایوان نے آخری دن MMDR ترمیمی بل سمیت کئی اہم قانون سازی کے کام کو آگے بڑھایا۔

12 نئے بل پیش، 11 دونوں ایوانوں سے منظور

2026 کے مانسون اجلاس میں حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 12 نئے بل پیش کیے گئے۔ ان میں 10 بل لوک سبھا اور دو بل راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے۔

ان بلوں کا تعلق ٹیکس، بینکنگ، کان کنی، ٹریبونل، پیدائش و اموات کے اندراج، امتحانات میں نقل کی روک تھام، کیرالہ کے نام میں تبدیلی اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد جیسے مختلف معاملات سے تھا۔

MMDR ترمیمی بل کے راجیہ سبھا سے منظور ہونے کے بعد 12 میں سے 11 بل دونوں ایوانوں سے منظور ہوچکے ہیں۔ صرف انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ سے متعلق بل ابھی دونوں ایوانوں سے منظور نہیں ہوسکا ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر بندر کے کھلونے کے ساتھ احتجاج

پارلیمنٹ کے اندر جہاں کارروائی انتہائی محدود رہی، وہیں باہر بھی اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا۔ اپوزیشن کے کچھ ارکان بندر کے کھلونے کے ساتھ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے نظر آئے۔ اس مظاہرے کے ذریعے حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا گیا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن مختلف مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے اپوزیشن پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

آخری دن بھی موجود رہے بڑے رہنما

لوک سبھا میں آخری دن وزیر اعظم نریندر مودی، امت شاہ، مرکزی کابینہ کے ارکان اور راہل گاندھی سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔ اس کے باوجود ایوان میں تفصیلی بحث نہیں ہوسکی اور کارروائی بہت کم وقت میں ختم کردی گئی۔

اس آخری منظر نے پورے اجلاس کی سیاسی کیفیت کو کسی حد تک ظاہر کردیا۔ حکومت نے جہاں منظور کیے گئے بلوں کو اپنی قانون سازی کی کامیابی قرار دیا، وہیں اپوزیشن نے مختلف مسائل پر بحث نہ ہونے اور کارروائی متاثر ہونے کے لیے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔

قانون سازی ہوئی، لیکن بحث کے لیے وقت کم رہا

پارلیمانی جمہوریت میں کسی بل کا منظور ہونا اہم ہے، لیکن اس سے پہلے اس کی دفعات پر تفصیلی بحث بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ مانسون اجلاس کے دوران متعدد بل منظور ہوئے، لیکن ہنگامے اور بار بار کارروائی ملتوی ہونے کی وجہ سے ارکان کو مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو کا موقع محدود رہا۔

یہی وجہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد پارلیمنٹ کی کارکردگی اور ضائع ہونے والے وقت پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ایوانوں میں ممکنہ کارروائی کا ایک بڑا حصہ استعمال نہیں ہوسکا۔

حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف برقرار

مانسون اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات نمایاں رہے۔ اپوزیشن نے مختلف مسائل پر فوری بحث کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت کی جانب سے ایوان کو معمول کے مطابق چلنے دینے پر زور دیا گیا۔

آخری دن بھی یہ سیاسی اختلاف کم ہوتا نظر نہیں آیا۔ راجیہ سبھا میں ملکارجن کھرگے کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے سے لے کر پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کے احتجاج تک، دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی فاصلے واضح رہے۔

2025 میں بھی خلل رہا تھا اہم مسئلہ

پارلیمانی کارروائی میں خلل کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ گزشتہ سال کے مانسون اجلاس میں بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی کئی مواقع پر احتجاج اور ہنگامے کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔

2026 کے مانسون اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ شدید ہنگامے کے باوجود قانون سازی کا عمل مکمل طور پر نہیں رکا۔ حکومت نے متعدد بل پیش کیے اور ان میں سے زیادہ تر کو دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیابی حاصل کی، لیکن عام پارلیمانی بحث کے لیے دستیاب وقت کا بڑا حصہ متاثر ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ میں ہنگامے کے درمیان حکومت کا قانون سازی کا ایجنڈا آگے بڑھا، کئی اہم بل منظور

مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا احتجاج اور حکومت کی حکمت عملی، جانیں کیا رہے اہم مسائل

پارلیمانی وقت کا ضیاع جمہوریت کے لیے کیوں اہم ہے؟

پارلیمنٹ صرف قوانین منظور کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں حکومت اپنے فیصلوں کا جواب دیتی ہے اور اپوزیشن عوام سے متعلق سوالات حکومت کے سامنے رکھتی ہے۔ اس لیے جب مسلسل احتجاج اور خلل کی وجہ سے ایوان کا کام متاثر ہوتا ہے تو نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پورے پارلیمانی نظام کا ہوتا ہے۔

2026 کے مانسون اجلاس میں قانون سازی کے باوجود دونوں ایوانوں میں کارروائی کے بڑے حصے کا متاثر ہونا اسی چیلنج کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور بلوں کی وضاحت کرے، جبکہ اپوزیشن کا کردار حکومت سے سوال پوچھنا اور اسے جوابدہ بنانا ہے۔

اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن اختلاف کو بامعنی بحث میں تبدیل کرنا پارلیمنٹ کی اصل طاقت ہوسکتی ہے۔ لوک سبھا میں تقریباً 96 گھنٹے اور راجیہ سبھا میں 76 گھنٹے سے زیادہ ممکنہ وقت کا متاثر ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پارلیمانی کام کاج کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے بہتر سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *